نواب مصطفیٰ خاں شیفتہؔ (1809ء–1869ء) اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور تذکرہ نگار تھے، جن کا شمار دہلی کے ان نامور اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو ادب کی کلاسیکی روایت کو جلا بخشی، ان کا تعلق بنگش پٹھانوں کے ایک معزز اور صاحبِ ثروت خانوادے سے تھا، ان کی پیدائش دہلی میں ہوئی، خاندان کے تعلقات ریاست فرخ آباد کے نوابوں سے تھے جبکہ ان کے عزیزوں میں 1857ء کی جنگِ آزادی کے معروف مجاہد ولی داد خاں بھی شامل تھے، ان کے والدِ نسبتی مشہور سپہ سالار اسمعیل بیگ ہمدانی تھے، پلوَل (گڑگاؤں) اور جہاں گیر آباد (میرٹھ) کی جاگیریں ان کی ملکیت میں تھیں۔
شیفتہؔ نے ابتدائی تعلیم اپنے عہد کے جید اساتذہ میاں جی مال مال اور حاجی محمد نور نقشبندی سے حاصل کی، نوعمری ہی میں شعر گوئی کا آغاز کیا اور جلد ہی دہلی کے ادبی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا، وہ اس عہد کی اس درخشاں مثلث کا حصہ تھے جس میں مرزا غالب، شیخ ابراہیم ذوق اور حکیم مؤمن خاں مؤمن جیسے اکابر شعرا شامل تھے، مرزا غالب سے ان کی دوستی اور عقیدت مثالی تھی، انہوں نے غالب کے مشکل ترین ایام میں ان کا ساتھ دیا، مالی معاونت کی اور قید کے زمانے میں بھی ان سے ملاقات کرتے رہے، ان کا دولت خانہ مشاعروں، ادبی نشستوں اور اہلِ سخن کی سرپرستی کا ایک اہم مرکز تھا۔
1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد انگریز حکومت نے انہیں بہادر شاہ ظفر سے قربت اور انقلابی شخصیات سے تعلقات کے باعث گرفتار کر لیا، بغاوت میں ملوث ہونے کے شبہے میں انہیں سات سال قید کی سزا سنائی گئی اور ان کی جاگیریں ضبط کر لی گئیں، بعد ازاں اپیل کے نتیجے میں ان کی بعض املاک واپس کر دی گئیں، جس قید خانے میں وہ محبوس رہے، اسی مقام پر بعد میں ان کے فرزند نواب اسحٰق خاں نے تاریخی مصطفیٰ کیسل تعمیر کرایا۔
شیفتہؔ کی شاعری ابتدا میں رومانوی رنگ لیے ہوئے تھی تاہم ادائیگیٔ حج کے بعد ان کی زندگی میں نمایاں روحانی تبدیلی پیدا ہوئی، سفرِ حج کے دوران ان کا جہاز حادثے کا شکار ہو کر ایک غیر آباد جزیرے کے قریب تباہ ہوگیا، جہاں وہ کئی ہفتوں تک اپنے ساتھیوں سمیت محصور رہے، نجات کے بعد ان کی فکر اور شاعری میں مذہبی اور روحانی رجحانات نمایاں ہوگئے اور ان کے کلام میں زہد، تقویٰ اور سنجیدگی کے عناصر غالب آنے لگے۔
شیفتہ اپنی اردو شاعری میں اصلاح کے لیے مؤمن خاں مؤمن سے رجوع کرتے تھے، جبکہ فارسی شاعری میں مرزا غالب کی رہنمائی حاصل کرتے تھے، ان کی علمی و تحقیقی خدمات میں اردو شاعری کی اولین تاریخوں میں شمار ہونے والی تصنیف "گلشنِ بے خار" کو خاص اہمیت حاصل ہے جو اردو شعرا اور شاعری کے احوال پر ایک مستند اور اہم ماخذ سمجھی جاتی ہے، شیفتہ کا انتقال 1869ء میں دہلی کے کوچہ چیلاں میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہوا، انہیں حضرت نظام الدین اؤلیا کے مزار کے قریب خاندانی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔