Font by Mehr Nastaliq Web

مصنف : کبیر

سن اشاعت : 1997

زبان : اردو

صفحات : 146

کبیر : کبیر کے نغموں پر گفتگو

مصنف: تعارف

کبیر ہندوستانی سنت روایت کے ان عظیم اور آفاقی شخصیتوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے افکار، تعلیمات اور شاعری کے ذریعے معاشرتی اور روحانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے، ان کے سلسلۂ ارادت کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں، ایک روایت کے مطابق وہ سنت رامانند جی کے شاگرد تھے جبکہ دوسری روایت انہیں جھونسی کے شیخ تقی سہروردی کا مرید قرار دیتی ہے، تاہم اس امر میں کوئی اختلاف نہیں کہ کبیر نے اپنے عہد کی مذہبی تنگ نظری، سماجی جمود اور انسانی تفریق کے خلاف بھرپور آواز بلند کی، کبیر نے ذات پات کے نظام، چھوا چھوت، مذہبی تعصبات اور معاشرتی برائیوں کو اپنے دوہوں، پدوں، جھولنوں اور دیگر شعری اصناف میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا، ان کی شاعری انسان دوستی، مساوات، اخلاص اور باطنی سچائی کی علمبردار ہے، وہ ظاہر پرستی اور رسم و رواج کی اندھی تقلید کے مخالف تھے اور انسان کو اپنے باطن کی اصلاح اور خدا کی حقیقی معرفت کی طرف متوجہ کرتے تھے، کبیر کی شاعری کا ایک منفرد پہلو ان کی ’’اُلٹ بانسی‘‘ ہے جس میں وہ رمز، استعارے اور بظاہر متضاد بیانات کے ذریعے گہرے روحانی اور فلسفیانہ حقائق کو بیان کرتے ہیں، ان کا اسلوب سادہ ہونے کے باوجود معنوی گہرائی اور فکری وسعت سے مالا مال ہے، روایات کے مطابق کاشی میں ان کا مسکن ایک طرف طوائف کے گھر اور دوسری طرف قصائی کی دکان کے درمیان واقع تھا اور وہ اسی مقام پر اپنی روحانی محفلیں اور ستسنگ منعقد کیا کرتے تھے، اس طرزِ عمل سے ان کا یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ روحانیت اور انسانیت کا تعلق ظاہری ماحول سے نہیں بلکہ قلب کی پاکیزگی سے ہے، کبیر کی وفات کے بعد ان کی شخصیت اور تعلیمات کے احترام میں ہندوؤں نے وارانسی میں ان کی سمادھی تعمیر کی، جبکہ مسلمانوں نے مگہر میں ان کی یادگار قائم کی، یہ حقیقت اس امر کی علامت ہے کہ کبیر دونوں مذہبی روایتوں میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، ان کے پیروکار ’’کبیر پنتھی‘‘ کہلاتے ہیں جو آج بھی ان کی تعلیمات کی اشاعت و ترویج میں مصروف ہیں، کبیر کی تصانیف میں ’’بیجک‘‘ کو سب سے زیادہ مستند اور اہم مقام حاصل ہے، اس کے علاوہ ان کی متعدد تخلیقات سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب میں بھی شامل ہیں جو ان کی فکری عظمت، روحانی گہرائی اور ہمہ گیر مقبولیت کا روشن ثبوت ہیں۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید
بولیے