جوش ملیح آبادی کا رسالہ کلیم بھی ترقی پسند اقدار کا ترجمان تھا۔ اس کی اشاعت کا آغاز جنوری 1936 میں ہوا۔ پہلے جوش ملیح آبادی نے ’کاخِ بلند‘ کے عنوان سے اس کا اعلان شائع کیا تھا۔ بعدمیں اسے کلیم کر دیاگیا۔ ’کلیم‘ میں اشارات ،رفتار وقت ، اخبار اردو، نقد و نظر کے تحت مضامین شائع ہوا کرتے تھے۔ اس رسالہ نے بہت کم وقت میں ارباب علم و دانش کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیابی حاصل کی اور جوش ملیح آبادی نے بھی اس رسالہ کو مفیدسے مفیدتر بنانے کے لئے جی توڑ کوشش کی۔ مگر ارباب ادب کی سرد مہری کی وجہ سے یہ رسالہ اشاعتی تعطل کا بھی شکار رہا۔ رسالہ کلیم کو جوش ملیح آبادی نے اپنی روح کی آواز کہا مگر ارباب ادب کی بے حسی اور نامساعد حالات کی وجہ سے یہ آواز دم توڑ گئی اور یہ رسالہ صرف تین سال تک ہی نکل پایا۔