کیفی دہلوی کا اصل نام چندر بھان اور کیفی تخلص تھا، آپ منشی مراری لال کے فرزند تھے اور قومِ کائستھ کے ماتھر خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کا آبائی وطن ریاست الور کی تحصیل تجارہ تھا، تاہم آپ کے بزرگ مغل بادشاہ محمد شاہ کے عہد میں دہلی منتقل ہوگئے تھے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی، کیفی کو ابتدا ہی سے شعر و سخن سے گہرا شغف تھا، انہوں نے ادبی ماحول میں پرورش پائی اور منشی پیرے لال رونقؔ اور منشی چندر پرشاد کی صحبت سے فیض حاصل کیا، بعد ازاں انہیں راسخ سرہندی دہلوی کی شاگردی کا شرف بھی حاصل ہوا، جس سے ان کی شعری صلاحیتوں کو مزید جلا ملی، کیفی فارسی زبان و ادب پر غیر معمولی قدرت رکھتے تھے، ان کی شاعری میں زبان کی شائستگی، فکری پختگی اور قومی جذبے کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے، آپ سودیشی تحریک اور تحریکِ آزادی سے بھی وابستہ رہے اور کانگریس کے مختلف جلسوں میں شریک ہو کر قومی بیداری کے فروغ میں حصہ لیتے رہے، کیفی نے اپنی علمی و ادبی خدمات کے ذریعے اردو شاعری میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا، 1941ء میں آپ کا انتقال ہوا۔