بہادر شاہ ظفر کی شاعری اپنا ایک مخصوص جمالیاتی ذائقہ اور اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ اُس عہد کے تناظر میں ان کی شاعری نسبتاً زیادہ توجہ طلب کہی جاسکتی ہے۔ ظفر کی شاعری چونکہ اس عہد کے دیگر شعراء کے مقابلے میں اپنے عہد کے مسائل سے زیادہ قریب تھی۔ اس لیےبہادر شاہ ظفر کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ان عوامل کو بھی نظر میں رکھنا ہوگا جن سے وہ پورا عہد اور خود بہادر شاہ ظفر کی زندگی متاثر ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر جس سیاسی انحطاط اور باطنی آشوب سے دوچارہ تھے، اس کی تصویر ان کی شاعری میں بہت نمایاں ہے،مغلیہ سلطنت کا زوال انگریزوں کا روز افزوں اقتدار، شاہی خاندان کی بے بسی بہادر شاہ ظفر کے لیے بہت بڑا المیہ تھی۔ ان کے یہاں اپنے عہد کے سیاسی خلفشار اور سماجی صورتِ حال کا بیان معروضی یا سپاٹ اندازمیں نہیں ملتا۔ ان واقعات کی جڑیں ان کی روح میں پیوست تھیں، بہادر شاہ ظفر نے ادب کی تمام تر اصناف میں شعر کہے ان میں حمد، نعت رسول مقبول ﷺ ، رباعی،مثلث،مخمس، قطعات، سہرے،سلام مرثیہ،دوہے،ٹھمریاں، مسدس اور تضمین وغیرہ شامل ہیں۔ظفر کے کلام میں موسیقیت بھی پائی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ گانے والوں نے ان کے کلام کو خوبصورتی سے گایا ہے، زیر نظر کتاب بہادر شاہ ظفر کی کلیات ہے ،جسے مطبع نول کشور نے ان کے مختلف دیوانوں کو یکجا کرکے چار جلدوں میں شائع کیا تھا۔ یہ متن اسی ترتیب پر ہے اور یہ اس کی جلد چہارم ہے۔