زیر نظر "میخانہ درد" میں خواجہ میر درد کا مکمل حسب نسب، آپ کی آل و اولاد، آپ کے سجادہ نشین، شاگردان اور مشائخ کا تفصیلی احوال بیان ہوا ہے۔ اس کتاب کو خواجہ سید ناصر نظیر فراق دہلوی نے تصنیف کیا ہے جو خود اسی سلسے کے بزرگ ہیں۔ اس کتاب کو مختلف جاموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اور ہر جام کے تحت مذکورہ لوگوں کے احوال ہیں۔ اس طرح کتاب میں چودہ جام اور ایک خاتمہ ہے۔ خواجہ میر درد اردو و فارسی زبان کے صوفی شاعر ہیں۔ ان کی شاعری اور دیگر تصنیفات یقینی طور پر خالص متصوفانہ مضامین پر محمول ہیں۔ اس کتاب میں مصنف نے درد سے متعلق نہایت ہی اہم معلومات مہیا کی ہیں جس میں آپ کے مکمل حالات، خیالات، آپ کا سلسلہ درویشی، آپ کی فکر وغیرہ کا مکمل تذکرہ ہے۔
ناصر نذیر فراق دہلوی انیسویں صدی کے ان ممتاز صوفی شاعر و ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے خاندانی روایتِ تصوف اور ادبی وراثت کو نہایت وقار کے ساتھ آگے بڑھایا، وہ بزرگ مرتبت صوفی شاعر خواجہ میر درد کے نواسے اور مؤمن خان مؤمن کے شاگردِ رشید محسن علی ملال کے فرزند رشید تھے، ان کی ولادت 16 اگست 1865ء کو ہوئی اور 18 فروری 1933ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، ناصر نذیر فراق نے شاعری میں مولانا محمد حسین آزاد سے اصلاح لی، وہ نہ صرف ایک قادرالکلام شاعر تھے بلکہ ایک سنجیدہ نثر نگار بھی تھے، صوفی گھرانے سے تعلق اور اسی ماحول میں تعلیم و تربیت پانے کے باعث ان کی طبیعت میں روحانیت اور تصوف کا رنگ گہرائی کے ساتھ رچا بسا تھا، جس کا عکس ان کی شاعری میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے، انہوں نے زیادہ تر صوفیانہ شاعری کی اور ان کی مطبوعہ و غیر مطبوعہ تصانیف کی تعداد بائیس کے قریب بتائی جاتی ہے، جن میں میخانۂ درد خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، وہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں اظہارِ خیال کرتے تھے، فراق دہلوی نے قرآنِ مجید کا ایک آسان اور عام فہم اردو ترجمہ بھی عروس القرآن کے نام سے کیا جو ان کے دینی ذوق اور علمی بصیرت کا مظہر ہے، طباعت اور درس و تدریس ان کے ذریعۂ معاش تھے اور اسی کے ساتھ وہ علمی و ادبی خدمات میں مصروف رہے، اگرچہ وہ ایک صاحبِ کمال شاعر تھے، تاہم افسوس کہ ان کا کوئی باقاعدہ شعری مجموعہ ان کی زندگی میں زیورِ طبع سے آراستہ نہ ہوسکا۔