Font by Mehr Nastaliq Web

سن اشاعت : 1995

زبان : اردو

صفحات : 271

قصہ ہیر رانجھا

کتاب: تعارف

قصہ ہیر رانجھا عبدالغنی شوق دلاوری چیمہ کی ایک منظوم داستان ہے جس میں پنجاب کی قدیم اور مقبول عشقیہ روایت کو شاعر نے اپنے عہد کے اجتماعی تجربات، ذاتی احساسات اور معاشرتی مشاہدات کے ساتھ نئی معنوی جہت عطا کی ہے۔ ہیر رانجھا کی داستان پنجاب کی شعری روایت میں ایک طویل اور مسلسل تخلیقی سلسلے کی حیثیت رکھتی ہے، عبدالغنی شوق نے بھی اسی روایت سے رشتہ قائم رکھتے ہوئے اسے اپنے زمانے کی آواز بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی ہیر میں عشق و محبت کے روایتی مضامین کے ساتھ معاشرتی ناہمواری، مہنگائی، رشوت، ذخیرہ اندوزی، جھوٹ، فریب، منشیات، اخلاقی انحطاط اور باہمی نااتفاقی جیسے مسائل زیرِ بحث آتے ہیں، جبکہ سچائی، علم، عقل، محبت، اتفاق اور انسانی ہمدردی کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ شاعر کے اپنے بیان کے مطابق یہ موضوعات ہیر رانجھا کی داستان کے شعری قالب میں اس طرح پیوست ہوئے ہیں کہ قدیم قصہ معاصر زندگی کے مسائل کا آئینہ بن جاتا ہے۔اس کتاب کی اہمیت اس کے منظوم قصہ ہونے میں بھی ہے۔ شاعر نے محض واقعات کو بیان نہیں کیا بلکہ ذاتی تجربات اور خالص احساسات کو ہیر کے کرداروں اور واقعات میں جذب کرکے ایک شخصی اور عصری لہجہ پیدا کیا ہے۔ زبان میں پنجابی تہذیب، مقامی محاورے اور لوک روایت کی خوشبو نمایاں ہے، جبکہ پنجابی شاعری کے قدیم سرمائے سے اس کا رشتہ گورمکھی اور شاہ مکھی دونوں رسم الخطوں میں محفوظ پنجابی ادبی روایت کے وسیع تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یوں شوق کی ہیر روایت سے انقطاع کے بجائے روایت کی نئی تعبیر سامنے لاتی ہے۔عبدالغنی شوق کی یہ تخلیق اس اعتبار سے بھی قابلِ مطالعہ ہے کہ شاعر نے ایک معروف لوک داستان کو اپنے عہد کے سماجی شعور اور داخلی تجربے سے ہم آہنگ کیا ہے۔ قصہ ہیر رانجھا چنانچہ محض عشق کی داستان نہیں بلکہ پنجابی لوک روایت، منظوم قصہ گوئی، شخصی احساس اور معاشرتی تنقید کے باہمی امتزاج کی ایک قابل توجہ مثال ہے۔

.....مزید پڑھئے
بولیے