کم نہیں زلف کا زنجیر بلا ہو جانا
کم نہیں زلف کا زنجیر بلا ہو جانا
شوقِ دیوانگی کچھ اور سوا ہو جانا
چاہتا ہو وہ گل تر جو ہوا پھولوں کی
پنکھیا جھلنے کو تیار صبا ہو جانا
شب ہے تاریک دریار پہ جاؤں کیوں کر
مشعلِ عشق تو ہی راہنما ہو جانا
پھوٹ کر روئیں گے خوں آبلہ پا میرے
لالۂ روخار بیابانِ بلا ہو جانا
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 408)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.