کہو تو کیا یہ مسئلہ ہے عین شين قاف کا
کہو تو کیا یہ مسئلہ ہے عین شين قاف کا
جی رستہ مشکلوں بھرا ہے عین شين قاف کا
اسے کیے بغیر خود خدا بھی رہ نہیں سكا
یہی تو دوست معجزہ ہے عین شين قاف کا
بنے پھرے قیس آج کل جو انسے پوچھیے
انہیں ذرا سا بھی پتہ ہے عین شين قاف کا
یہاں وہاں نہ دیکھ شيخ جا چلا جا
اگر جو رقس دیکھنا ہے عین شين قاف کا
سنا کے نوک پر کرا دے جو امام سے ثنا
حضور ایسا مرتبہ ہے عین شين قاف کا
ترے بغیر چل نہیں سکینگے اِک قدم بھی ہم
بہت کٹھن یہ راستہ ہے عین شين قاف کا
کہیں پے کربلا کہیں پے حشر برپا کر دیا
یہ مختصر سا واقعہ ہے عین شين قاف کا
یہ تو قضا ہے اس کے بعد اور بھی ہے امتحاں
جہاں کھڑا ہے ابتدا ہے عین شين قاف کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.