Font by Mehr Nastaliq Web

نہ اس کو سن سکو گے تم نہ خود مجھ سے بیاں ہوگا

آرزو اکبرآبادی

نہ اس کو سن سکو گے تم نہ خود مجھ سے بیاں ہوگا

آرزو اکبرآبادی

MORE BYآرزو اکبرآبادی

    نہ اس کو سن سکو گے تم نہ خود مجھ سے بیاں ہوگا

    مرے قصے کا اک اک حرف پوری داستاں ہوگا

    مجھے برباد ہی اے بانیٔ بیداد رہنے دے

    خدا رکھے تجھے تو اپنے دل کو شاد رہنے دے

    اندھیرا کیوں کیا روئے منور کیوں چھپاتا ہے

    اجالا تو کوئی دم اے ستم ایجاد رہنے دے

    تری فرقت میں ہے یہ آرزوؔ مہماں کوئی دم کا

    کرم کر اب ستم کو اے ستم ایجاد رہنے دے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 523)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے