مول لے لےکر بتوں کو آشنائی کیجیے
مول لے لےکر بتوں کو آشنائی کیجیے
جی میں آتا ہے کہ گھر بیٹھے خدائی کیجیے
یا میرے مشکل کشا مشکل کشائی کیجیے
قید غم سے یا علی میری رہائی کیجیے
یا متاع جان نذر رونمائی کیجیے
یا تو اے باسط حسینوں سے جدائی کیجیے
شرم آتی ہے گلہ کرتے خدا کے سامنے
دل لگا کر ان بتوں سے کیا برائی کیجیے
غیر کو رہتے ہوئے میرے نہ آنے دیجئیے
ساتھ میرے آپ اتنی تو بھلائی کیجیے
روبرو رہتے تھے باہم آپ کل کا ذکر ہے
آج چھپ چھپ کر جہاں تک پارسائی کیجیے
جی میں آتا ہے یہی باسطؔ کہ گھر کو چھوڑ کر
پھر کسی کوچہ میں کچھ بخت آزمائی کیجیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.