Font by Mehr Nastaliq Web

مول لے لےکر بتوں کو آشنائی کیجیے

عبدالباسط مونگیری

مول لے لےکر بتوں کو آشنائی کیجیے

عبدالباسط مونگیری

MORE BYعبدالباسط مونگیری

    مول لے لےکر بتوں کو آشنائی کیجیے

    جی میں آتا ہے کہ گھر بیٹھے خدائی کیجیے

    یا میرے مشکل کشا مشکل کشائی کیجیے

    قید غم سے یا علی میری رہائی کیجیے

    یا متاع جان نذر رونمائی کیجیے

    یا تو اے باسط حسینوں سے جدائی کیجیے

    شرم آتی ہے گلہ کرتے خدا کے سامنے

    دل لگا کر ان بتوں سے کیا برائی کیجیے

    غیر کو رہتے ہوئے میرے نہ آنے دیجئیے

    ساتھ میرے آپ اتنی تو بھلائی کیجیے

    روبرو رہتے تھے باہم آپ کل کا ذکر ہے

    آج چھپ چھپ کر جہاں تک پارسائی کیجیے

    جی میں آتا ہے یہی باسطؔ کہ گھر کو چھوڑ کر

    پھر کسی کوچہ میں کچھ بخت آزمائی کیجیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے