دم بدم تیغ ستم مجھ پر نہ تو ہر بار کھینچ
دم بدم تیغ ستم مجھ پر نہ تو ہر بار کھینچ
ہاتھ اپنا ظلم سے او چرخِ کج رفتار کھینچ
کیا قباحت ہوگئی میں نے جو ابرو چھو لیے
اک ذرا سی بات پر قاتل نہ تو تلوار کھینچ
کوئے جاناں سے نہ رکھوں گا کبھی باہر قدم
مجھ کو اے رضواں نہ جنت کی طرف ہر بار کھینچ
ہم سے دیوانے بسر کر لیں گے اپنی دھو پ میں
جا سرک چل اپنی چادر سایۂ دیوار کھینچ
آبلہ پھوٹا اگر کوئی تو دانائی نہیں
ہاں سمجھ کر چارہ گر تلوؤں سے میرے خار کھینچ
کیا عجب ہے خود وہ گھبرا کر نکل آئیں غنیؔ
چار نالے تو کسی دن تو پسِ دیوار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.