Font by Mehr Nastaliq Web

سوزِ غم یوں برق در آغوش ہے دل کے لیے

عبدالحمید

سوزِ غم یوں برق در آغوش ہے دل کے لیے

عبدالحمید

MORE BYعبدالحمید

    سوزِ غم یوں برق در آغوش ہے دل کے لیے

    ہو مسافر جس طرح بیتاب منزل کے لیے

    کلکِ قدرت نے ازل ہی سے دیا رنگ دوام

    دل بنا غم کے لیے اور غم بنا دل کے لیے

    اے خوشا جوشِ جنوں گلزار دنیا ہو گئی

    پاؤں میں زنجیر ڈالی سازِ محفل کے لیے

    دیدنی ہیں دستِ قدرت کی عنایت پاشیاں

    اتنے سامانِ طرب اک نقشِ باطل کے لیے

    عقل سودا بن کے چاہے جس کے بھی سر میں رہے

    عشق تو پیدا ہوا دانش گہِ دل کے لیے

    منزلیں خود چومتی ہیں اس کے مجنوں کے قدم

    اور دنیا ہے کہ سر گرداں ہے منزل کے لیے

    جلوۂ رنگیں تو پردہ ہے حجابِ ناز کا

    لوگ کیوں مجنوں بنے پھرتے ہیں محمل کے لیے

    سانس بھی خارِ خلش زا بن کے چبھتی ہے حمیدؔ

    اک بلائے جاں محبت ہوگئی دل کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے