Font by Mehr Nastaliq Web

دل میں ہمارے یاد جو ان کی رہا کرے

عبدالحق موجد

دل میں ہمارے یاد جو ان کی رہا کرے

عبدالحق موجد

MORE BYعبدالحق موجد

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    دل میں ہمارے یاد جو ان کی رہا کرے

    پھر کیوں نہ اس مکان کی رونق ہوا کرے

    چھٹ جاؤں میں بلا سے مصیبت سے رنج سے

    گر رحم مرے حال پہ وہ دلربا کرے

    یوں فصلِ گل میں رو کے کہا عندلیب نے

    صیاد اب بھی تو مجھے دم بھر رہا کرے

    لاکھوں ہیں اس کے فضل و کرم اور عنایتیں

    کیا کوئی شکر نعمت حق کا ادا کرے

    کیوں کر نہ فخر اپنے گناہوں پہ ہو مجھے

    موجدؔ شفاعت اپنی جو خیرالورا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے