ایسا نہ ہو پھر ہوش بگڑ جائے کہیں آج
ایسا نہ ہو پھر ہوش بگڑ جائے کہیں آج
تصویر ترے کھینچے تو صورت گر چیں آج
مایوس تھے ہم وصل سے اے ماہ جبیں آج
دو بج گئے اب کس کو نہ تھا آنے کا یقیں آج
بدنام کوئی ہم سا زمانہ میں نہیں آج
سچ ہے کہ برے سب سے ہیں دنیا میں کہیں آج
روشن کرے گھر کو مرے وہ ماہ جبیں آج
تاثیر دکھا اپنے تو اے آہ حزیں آج
ارمان شب وصل میں سب دل کے نکالے
کہتے رہے وہ لاکھ نہیں آج نہیں آج
ہم خوب سمجھتے ہیں تجھے او بت عیار
پھر کل کی طرح تونے نکالا ہے نہیں آج
ساقی تری آنکھوں نے یہ مدہوش کیا ہے
رکھتا ہوں کہیں پاؤں تو پڑتا ہے کہیں آج
کیوں پھرتی ہیں بیکس کی طرح حسرت و ارماں
گاڑا ہے فلک تونے کسے زیر زمیں آج
خاتم کا پتاہے یہ سلیماں کا نشاں ہے
باقی نہ رہا نام کوئی نقش نگیں آج
ہم چشم نہیں تھا تو بھلا داد تو دیتا
افسوس کہ فرہاد نہیں قیس نہیں آج
نیرنگی عالم نے عجب رنگ جمایا
مٹی کے تلے سوتے ہیں اورنگ نشیں آج
تیر نگہ یار نے کیا ڈھونڈ کے مارا
چلاّتے ہیں دل تھامے ہوئے گوشہ نشیں آج
عاشق تو کسی بت پہ سحرؔ تم نہ ہوئے ہو
کیا حال ہے کیوں بیٹھے ہو بیتاب حزیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.