اس عشق کا انجام میں کچھ سوچ رہا ہوں
اس عشق کا انجام میں کچھ سوچ رہا ہوں
ہاں اے ہوسِ خام میں کچھ سوچ رہا ہوں
خالی ہوئے سب جام نہیں کوئی بھی میکش
اے دردِ تہہ جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
جی بھر کے تجھے آج میں دیکھوں کہ نہ دیکھوں
اے حسنِ لب بام میں کچھ سوچ رہا ہوں
اپنے دلِ بے تاب سے میں خود ہوں پریشاں
کیا دوں انہیں الزام میں کچھ سوچ رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.