Font by Mehr Nastaliq Web

اس عشق کا انجام میں کچھ سوچ رہا ہوں

ثاقب کانپوری

اس عشق کا انجام میں کچھ سوچ رہا ہوں

ثاقب کانپوری

MORE BYثاقب کانپوری

    اس عشق کا انجام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    ہاں اے ہوسِ خام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    خالی ہوئے سب جام نہیں کوئی بھی میکش

    اے دردِ تہہ جام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    جی بھر کے تجھے آج میں دیکھوں کہ نہ دیکھوں

    اے حسنِ لب بام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    اپنے دلِ بے تاب سے میں خود ہوں پریشاں

    کیا دوں انہیں الزام میں کچھ سوچ رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے