ترا از حال مسکیناں خبر نیست
ترا از حال مسکیناں خبر نیست
بسوئے بیدلاں وقتے گزر نیست
تمہیں بیکسوں اور لاچاروں کے حالات کی کوئ خبر نہیں کہ تم انکے حال سے بیخبر ہو،بیدلوں کے پاس وقت نہیں گزارا جاتا۔
ز آہ من شدہ چوں موم آہن
دل سنگیت را ہرگز خبر نیست
میری آہ و زاری سے تو لوہا موم ہو جاتا ہے لیکن تمہارے سخت دل پر اس گریہ و زاری کا کوئ اثر نہیں ہوتا۔
ہمہ با محتشم سازی ولیکن
بہ نزد تو فقیراں را خطر نیست
تمہاری حشمت و جاہ و جلال سب کے ساتھ ہے لیکن تم سے فقیروں کو کوئ خطرہ نہیں ہے۔
ز دنیا چند نازے آخرت بیں
خبر از کار درویشاں مگر نیست
دنیا پر کیسا فخر و مباہات کہ آخرت کو دیکھو، فقیروں کے کاروبار کی خبر کسی کو نہیں ہے۔
بلا ہائے جہاں بسیار باشد
بلائے ہیچ مشکل چوں سفر نیست
دنیا کی مشکلات و پریشانیاں بیشمار ہیں، لیکن سفر سے زیادہ مشکل کوئ بلا نہیں ہے۔
خداوندا تو مگزاری ہمیشہ
کہ احمدؔ را بغیر تو دگر نیست
اے خدای بزرگ تو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے،اور یہ تیرا احمد تیرے بغیر کچھ نہیں ہے۔
پناہ تو اگر ہست باک نبود
دگر چیزے اگر باشد دگر نیست
اگر تیری پناہ ہے تو خوف کیسا کہ جب ایک چیز ہے تو دوسری کیسے ہو سکتی ہے۔
- کتاب : ارمغانِ بہار شریف حضرت احمد لنگر دریا بلخی کی حیات اور شاعری اور ملفوظات کا تنقیدی جائزہ (Pg. 50)
- Author : ڈاکٹر حسن امام
- مطبع : لیبل آرٹس پریس شاہ گنج، مہندر روڈ، پٹنہ (1998)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.