Font by Mehr Nastaliq Web

کب تک فراق یار کے صدمے سہا کرے

اختر مرزا

کب تک فراق یار کے صدمے سہا کرے

اختر مرزا

MORE BYاختر مرزا

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    کب تک فراق یار کے صدمے سہا کرے

    ناچار ہوئے زہر نہ کھائے تو کیا کرے

    میں جس کے کان غیر کی باتوں کے آشنا

    ممکن نہیں کہ وہ کبھی میرا کہا کرے

    فرصت تمام رات نہیں کنگھی چوٹی سے

    پرسش ہمارے حال کی اس کی بلا کرے

    اس کو نہیں کچھ ایسی غرض ہو کوئی تباہ

    ہے اذن عام ظلم کی شدت ہوا کرے

    دیکھے جو حسنِ یار محبت کی آنکھ سے

    سکتے سے آئینہ کو نہ فرصت ملا کرے

    بلبل بھرے جو تیری ہوا خواہیوں کا دم

    گلشن میں روز تازہ شگوفہ کھلا کرے

    مجھ پر تو بے قصور کھلی ہے زبانِ یار

    دشمن ہی منھ کی کھائے کسی دن خدا کرے

    اندھیر آئینہ کی نظر میں ہو دوجہاں

    زلفیں پریشان گر وہ بتِ خود نما کرے

    مدت سے بھر رہا ہوں ہوا خواہیوں کا دم

    کچھ کام میرا آج تو پیکِ صبا کرے

    مقبول وہ گھڑی بھی ہو یا رب شب وصال

    ہم روٹھیں وہ منائیں عدو بدعا کرے

    رہتا ہے میرے پہلو میں ہر دم وہ شعلہ رو

    اخترؔ حسد کی آگ سے دشمن جلا کرے

    مأخذ :
    • کتاب : ghazliyat-e-farsi (Pg. 04)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے