Font by Mehr Nastaliq Web

عقدے کھلیں گے جس دن خون نابۂ جگر کے

اخضر اکبرآبادی

عقدے کھلیں گے جس دن خون نابۂ جگر کے

اخضر اکبرآبادی

MORE BYاخضر اکبرآبادی

    عقدے کھلیں گے جس دن خون نابۂ جگر کے

    ہر گل پہ نقش ہوں گے شاید مری نظر کے

    کس دن نہ تھا میسر قربِ جمال ہم کو

    دھوکے اگر نہ ہوتے کوتاہیٔ نظر کے

    ساون کے بادلوں میں یہ بجلیاں نہیں ہیں

    صدقے اتر رہے ہیں اخضرؔ مری نظر کے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 431)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے