Font by Mehr Nastaliq Web

ادراک سے بلند ہے وہم و گماں سے دور

عنبر وارثی

ادراک سے بلند ہے وہم و گماں سے دور

عنبر وارثی

MORE BYعنبر وارثی

    ادراک سے بلند ہے وہم و گماں سے دور

    دل میں جو ایک راز ہے لفظِ بیاں سے دور

    ارض و فلک سے دور مکان و زماں سے دور

    پہنچا ہوں جستجو میں تری لا مکاں سے دور

    وہ ہر ادا سے ہیں میری ہستی میں جلوہ گر

    چاہے مکاں سے دور ہوں یا لا مکاں سے دور

    یہ بھی ہے اک فریب تنگ طرۂ نگاہ

    ورنہ سر نیاز اور اس آستاں سے دور

    اس طرزِ بندگی میں ہے دیوانگی کی شان

    سجدے سے تو کر رہا ہوں مگر آستاں سے دور

    شاید انہیں پہ ختم ہو روداد آشیاں

    چمکیں تھیں بجلیاں جو ابھی آشیاں سے دور

    ذوقِ طلب شعور طلب پر ہے منحصر

    عنبرؔ وہیں سے پاس ہے منزل جہاں سے دور

    مأخذ :
    • کتاب : وارث الاؤلیا فی تذکرۃ الفقرا (Pg. 192)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے