ادراک سے بلند ہے وہم و گماں سے دور
ادراک سے بلند ہے وہم و گماں سے دور
دل میں جو ایک راز ہے لفظِ بیاں سے دور
ارض و فلک سے دور مکان و زماں سے دور
پہنچا ہوں جستجو میں تری لا مکاں سے دور
وہ ہر ادا سے ہیں میری ہستی میں جلوہ گر
چاہے مکاں سے دور ہوں یا لا مکاں سے دور
یہ بھی ہے اک فریب تنگ طرۂ نگاہ
ورنہ سر نیاز اور اس آستاں سے دور
اس طرزِ بندگی میں ہے دیوانگی کی شان
سجدے سے تو کر رہا ہوں مگر آستاں سے دور
شاید انہیں پہ ختم ہو روداد آشیاں
چمکیں تھیں بجلیاں جو ابھی آشیاں سے دور
ذوقِ طلب شعور طلب پر ہے منحصر
عنبرؔ وہیں سے پاس ہے منزل جہاں سے دور
- کتاب : وارث الاؤلیا فی تذکرۃ الفقرا (Pg. 192)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.