Font by Mehr Nastaliq Web

ارماں کا میرے خون کیا تو کیا کرے

امیر حسن بیتھوی

ارماں کا میرے خون کیا تو کیا کرے

امیر حسن بیتھوی

MORE BYامیر حسن بیتھوی

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    ارماں کا میرے خون کیا تو کیا کرے

    شوخی کا تیرے خون نہ تیری حیا کرے

    کہتا گلوئے نیم بریدہ ہے تیغ سے

    قاتل سے کہہ دو اور کوئی دوسرا کرے

    آخر نکل پڑے میری آنکھوں سے اشک امیرؔ

    شیشہ میں بند کوئی کہاں تک رہا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے