دور اتنا آپ کو مجھ سے نہ اے دلدار کھینچ
دور اتنا آپ کو مجھ سے نہ اے دلدار کھینچ
میری جانب سے نہ یوں دل اپنا تو ہر بار کھیچ
کیا کہوں پالا پڑا ہے ایسے قاتل سے مجھے
دم بدم لیتا ہے جو ہر بات پر تلوار کھینچ
دیکھ کر آزار کو میرے مسیحا نے کہا
ہاتھ اپنی جان سے اے عشق کے بیمار کھینچ
پاس آ کر ایک بوسہ سے مجھے جان جہاں
اپنے عاشق سے نہ یوں ہر بار تو انکار کھینچ
چھوڑ کر اپنا وطن آئے ہیں تیرے پاس ہم
آب و دانہ دیکھ لایا ہے کہاں اے یار کھینچ
ہم سے رندوں نے عبث کرتا ہے زاہد قیل و قال
غیض میں آکر کسی دن لیں نہ یہ دستار کھینچ
ہے اثرؔ کو روز و شب اب تو مدینہ کی ہوس
اپنے روضہ کی طرف اس کو شہ ابرار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.