Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

دنیا کی فضا بس ایک نظر میں زیر و زبر ہو جاتی ہے

امجد حیدرآبادی

دنیا کی فضا بس ایک نظر میں زیر و زبر ہو جاتی ہے

امجد حیدرآبادی

MORE BYامجد حیدرآبادی

    دنیا کی فضا بس ایک نظر میں زیر و زبر ہو جاتی ہے

    وہ دیکھتے ہیں ان نظروں سے نظروں کو نظر ہو جاتی ہے

    وہ دنیا سے کھو جاتا ہے اور کیا سے کیا ہو جاتا ہے

    اس مست نظر کی جس پر بھی اک بار نظر ہو جاتی ہے

    جب آتی ہے رات وہ آتے ہیں ساتھ اپنے اجالا لاتے ہیں

    چھا جاتا ہے اندھیرا آنکھوں میں جس وقت سحر ہو جاتی ہے

    تدبیر کوئی چلتی ہی نہیں تقدیر کبھی ٹلتی ہی نہیں

    ہر چند بدی سے بچتا ہوں اس پر بھی مگر ہو جاتی ہے

    ہر وقت گزرتا رہتا ہے یہ دریا بہتا رہتا ہے

    ہو عید کا دن یا شامِ الم ہر حال بسر ہو جاتی ہے

    موجود جو شئے ہو جاتی ہے معدوم نہیں پھر ہو سکتی

    دنیائے وجود میں اے امجدؔ تغییر صور ہو جاتی ہے

    ۔۔۔

    جب مسندِ فقر پہ بیٹھ گیے شاہی کی تمنا کون کرے

    جب مالکِ کونین اپنا ہو کونین کی پرواہ کون کرے

    معبود اگر مشہود نہیں پھر طاعت میں کچھ سود نہیں

    مسجود کی جب تک دید نہ ہو موہوم کو سجدہ کون کرے

    ہر خواہش جان کی کاہش ہے خواہش جو نہ ہو آسایش ہے

    سنتا نہیں جب اپنی کوئی پھر عرضِ تمنا کون کرے

    تم آؤ نہ آؤ وعدے پر ہر حال میں راضی ہے امجدؔ

    تم جان اور دل کے مالک ہو مالک سے تقاضا کون کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے