Font by Mehr Nastaliq Web

ازل میں دل جو آیا ٹوٹ کر اس حسنِ پُر فن پر

انجم اکبرآبادی

ازل میں دل جو آیا ٹوٹ کر اس حسنِ پُر فن پر

انجم اکبرآبادی

MORE BYانجم اکبرآبادی

    ازل میں دل جو آیا ٹوٹ کر اس حسنِ پُر فن پر

    تڑپ اٹھے دوعالم عشق کے بےساختہ پن پر

    کشش کرتی ہے خاکستر بھی اربابِ محبت کی

    دلوں کا ذکر کیا ہے بجلیاں گرتی ہیں مدفن پر

    صدائے لن ترانی طور پر پہنچا گرے انجمؔ

    نیاز عشق سجدے کر رہا ہے دل کے دامن پر

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 480)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے