Font by Mehr Nastaliq Web

عاجز ہیں سب غرور کسی کا بجا نہیں

اسیر لکھنوی

عاجز ہیں سب غرور کسی کا بجا نہیں

اسیر لکھنوی

MORE BYاسیر لکھنوی

    عاجز ہیں سب غرور کسی کا بجا نہیں

    آفاق میں خدا کا کوئی دوسرا نہیں

    عمر رواں، رواں ہے کوئی جانتا نہیں

    یہ طرفہ کارواں ہے کہ جس میں درا نہیں

    ذرے ہیں کس شمار میں خورشید کے حضور

    اس کے سوا ہمیں طلبِ ماسوا نہیں

    سمجھے جو اس میں مجھ میں جدائی ہے بے بصر

    دریا سے موج موج سے دریا جدا نہیں

    سجدہ خدا کو کیجیے کیا خلق کے حضور

    مقبول وہ نماز ہے جس میں ریا نہیں

    ظاہر میں فرق ہے صفت رنگ و بوئے گل

    ہے اصل ایک کوئی کسی سے جدا نہیں

    دولت وہی ہے جس کو کہ کہتے ہیں ترک حرص

    دل ہے غنی تو حاجت سیم و طلا نہیں

    شدت ہو دردِ دل کی تو گھبرا نہ اے اسیرؔ

    مرتا ہے کب مرض سے وہ جس کی قضا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے