Font by Mehr Nastaliq Web

تھک چکے ہیں پاؤں اس کا آستانہ دور ہے

اسیر لکھنوی

تھک چکے ہیں پاؤں اس کا آستانہ دور ہے

اسیر لکھنوی

MORE BYاسیر لکھنوی

    تھک چکے ہیں پاؤں اس کا آستانہ دور ہے

    دن ہے کم، منزل کڑی ہے اور جانا دور ہے

    وائے قسمت باغ میں صیاد آ پہنچا قریب

    بال و پر اپنے نہیں اور آشیانہ دور ہے

    گور میں گڑ کر کہیں گے بعدِ مردن یہ حریص

    ہائے اب تک ہم سے قاروں کا خزانہ دور ہے

    بھاگ دنیا سے کہ ہو تیرِ حوادث سے نجات

    چوک جاتا ہے وہ اکثر جو نشانہ دور ہے

    شکل سے نفرت ہے سب کو کوئی پاس آتا نہیں

    ہم سے تم کیا دور ہو، سارا زمانہ دور ہے

    بے ہنر مسند نشیں، اہلِ ہنر در در خراب

    عقل انساں سے خدا کا کارخانہ دور ہے

    دہر میں کب ہو ظہورِ مہدیِ ہادی اسیرؔ

    دیکھیے نزدیک ہے یا وہ زمانہ دور ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے