Font by Mehr Nastaliq Web

آنکھیں بیکار ہیں جب دیکھیں نہ صورت تیری

اسیر لکھنوی

آنکھیں بیکار ہیں جب دیکھیں نہ صورت تیری

اسیر لکھنوی

MORE BYاسیر لکھنوی

    آنکھیں بیکار ہیں جب دیکھیں نہ صورت تیری

    دل وہ کیا دل ہے نہ ہو جس میں محبت تیری

    نخلِ ہستی سے نمودار ہے حسرت تیری

    اصل وحدت ہے تری فرع ہے کثرت تیری

    جلد اے روح سفر پیکر خاکی سے نہ کر

    چند روزہ ہے ملاقات غنیمت تیری

    کوئی پہنچا نہ ترے جلوہ گہہ ناز میں یار

    راہ ڈھونڈھا کیے ہفتاد و دو ملت تیری

    کیا عذاب شب فرقت سے چھڑایا ہم کو

    مہربانی تری اے مرگ عنایت تیری

    غنچۂ دل کو مرے چاک نہ کر ڈرتا ہوں

    کہ پریشان نہ ہو بوئے محبت تیری

    اس لیے ہے پر طاوس کی قرآں میں جگہ

    کہ دکھاتا ہے یہ نیرنگی قدرت تیری

    باغ میں بلبل و گل بزم میں پروانہ و شمع

    بھیس بدلے ہوئے پھرتی ہے محبت تیری

    شعلہ نار سقر سے جو ڈرے اہل نگاہ

    ابر بن بن کے برسنے لگی رحمت تیری

    سرکشی صورت آتش نہ کر اے پارہ خاک

    ذرے ذرے کو ہے معلوم حقیقت تیری

    بدلے نرگس کے اگیں گور پر آنکھیں ہر سال

    راہ دیکھا کیے ہم تا بقیامت تیری

    پاؤں کانٹوں کے سنانوں پہ ہیں دیوانوں کے

    راہ کیا سخت ہے اے وادی وحشت تیری

    دفن زر کے لیے کھدوائی ہے تو نے جو زمیں

    دیکھ منعم کہ اسی جانہ ہو تربت تیری

    ہوچکا محکمہ در نارو جناں کے ہوئے بند

    دیکھتے رہ گئے ہم حشر میں صورت تیری

    سیر بازار کو تو روز نکلتا ہے اسیرؔ

    آ گئی کیا کسی یوسف پہ طبیعت تیری

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے