Font by Mehr Nastaliq Web

سرائے ہستی سے اے مسافر ضرور کر قصد اب عدم کا

اسیر لکھنوی

سرائے ہستی سے اے مسافر ضرور کر قصد اب عدم کا

اسیر لکھنوی

MORE BYاسیر لکھنوی

    سرائے ہستی سے اے مسافر ضرور کر قصد اب عدم کا

    کہ دن ہے نزدیک، رات ہے کم، سحر کا تارا فلک پہ چمکا

    جو ہو ملاقات کی تمنا، ادھر کو تو بھی رواں ہو اے دل

    سفر سے ممکن نہیں ہے پھرنا، مسافرانِ رہِ عدم کا

    ہوئے تلف تخت و تاج کیا کیا، مٹے زر و مال کیسے کیسے

    کہاں ہے وہ حشمتِ سکندر، نشان دیکھو کہیں ہے جم کا

    بدن ہے لاغر، جگر فسردہ، دماغ ہے خشک دل ہے مردہ

    الٰہی آجائے کوئی جھونکا، کسی نسیم مسیح دم کا

    کسی کو باندھا، کسی کو پیسا، کسی کو مارا، کسی کو لُوٹا

    بلا کے گیسو ہیں قد قیامت، غضب کی چتون، چلن ستم کا

    رہِ طلب میں تمہارے طالب، ہوئے جو آوارہ ہو کے آخر

    تو سیر دیکھو کہ خاک سے بھی درخت پیدا ہوا قدم کا

    جہاں سے جو لوگ اٹھ گئے ہیں خبر ہو معلوم ان کی کیوں کر

    کبھی نہ ہستی میں پھر کے آیا، کوئی مسافر رہِ عدم کا

    جو اپنے ساتھی تھے سب سدھارے، کہاں ملے وہ کدھر کو ڈھونڈیں

    جگر کو دیتا ہے داغ فرقت، جو نقش رستے میں ہے قدم کا

    گزر ہوا جو میکدہ میں، ہے صید کرنے میں کیا تامل

    اسیرؔ بط ہے شراب کی یہ، نہیں ہے طائر کوئی حرم کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے