Font by Mehr Nastaliq Web

کھل گئی کیوں زباں نہیں معلوم

اسراراللہ غوثی

کھل گئی کیوں زباں نہیں معلوم

اسراراللہ غوثی

MORE BYاسراراللہ غوثی

    کھل گئی کیوں زباں نہیں معلوم

    کر گئی کیا بیاں نہیں معلوم

    غیر کا ذکر تھا کہ یا اپنا

    کس کی تھی داستاں نہیں معلوم

    میں ہوں قائم کس کی ذات کے ساتھ

    ہے کہاں جانِ جاں نہیں معلوم

    نہ ہی جیتا ہوں اور نہ مرتا ہوں

    دم ہوا ضم کہاں نہیں معلوم

    سارے دیر و حرم کے جھگڑے ہیں

    پر صنم ہے کہاں نہیں معلوم

    خود بنا کر خدا ہی کہتا ہے

    کیا ہے سود و زیاں نہیں معلوم

    لا الہٰ کوئی کہہ نہیں سکتا

    کیا ہے سر نہاں نہیں معلوم

    ہر کوئی کہہ رہا ہے الا اللہ

    ہوگیا کیا عیاں نہیں معلوم

    ہیں محمد رسول اللہ بھی

    رہ گیا کیا وہاں نہیں معلوم

    کون اللہ ہے کون بندہ ہے

    ھو فقط درمیاں نہیں معلوم

    پردۂ غیرت کے اٹھتے ہی

    کیوں ہوئی بند زباں نہیں معلوم

    بے خود میں یہ کہہ گیا کیا کیا

    کون تھا خوش بیاں نہیں معلوم

    بک رہا ہے جنون میں ہمدمؔ

    میں ہوں میں کا نشاں نہیں معلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے