کھل گئی کیوں زباں نہیں معلوم
کھل گئی کیوں زباں نہیں معلوم
کر گئی کیا بیاں نہیں معلوم
غیر کا ذکر تھا کہ یا اپنا
کس کی تھی داستاں نہیں معلوم
میں ہوں قائم کس کی ذات کے ساتھ
ہے کہاں جانِ جاں نہیں معلوم
نہ ہی جیتا ہوں اور نہ مرتا ہوں
دم ہوا ضم کہاں نہیں معلوم
سارے دیر و حرم کے جھگڑے ہیں
پر صنم ہے کہاں نہیں معلوم
خود بنا کر خدا ہی کہتا ہے
کیا ہے سود و زیاں نہیں معلوم
لا الہٰ کوئی کہہ نہیں سکتا
کیا ہے سر نہاں نہیں معلوم
ہر کوئی کہہ رہا ہے الا اللہ
ہوگیا کیا عیاں نہیں معلوم
ہیں محمد رسول اللہ بھی
رہ گیا کیا وہاں نہیں معلوم
کون اللہ ہے کون بندہ ہے
ھو فقط درمیاں نہیں معلوم
پردۂ غیرت کے اٹھتے ہی
کیوں ہوئی بند زباں نہیں معلوم
بے خود میں یہ کہہ گیا کیا کیا
کون تھا خوش بیاں نہیں معلوم
بک رہا ہے جنون میں ہمدمؔ
میں ہوں میں کا نشاں نہیں معلوم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.