Font by Mehr Nastaliq Web

رہے ما سوا کا نہ ہی کچھ خیال

اسراراللہ شاہ غوثی

رہے ما سوا کا نہ ہی کچھ خیال

اسراراللہ شاہ غوثی

MORE BYاسراراللہ شاہ غوثی

    رہے ما سوا کا نہ ہی کچھ خیال

    مجھے ایک ہو جائے ماضی و حال

    خلا اور ملا میں نہ ہو وہمِ غیر

    کروں بیخودی میں خدائی کی سیر

    مرے وصف بن جائیں تیرے صفات

    میری زیست ہو جائے تیری حیات

    مری بات بن جائے تیرا کلام

    میرا حال ہو جائے تیرا خرام

    پلا مجھ کو عرفاں کا جامِ رحیق

    تحیر کے ورطہ میں کرکے غریق

    نہ لیلیٰ رہے اور نہ مجنوں رہے

    فقط درمیاں میں ایک مضموں رہے

    نہ ساغر رہے اور نہ ساقی رہے

    بجز تیرے ہمدمؔ نہ باقی رہے

    مأخذ :
    • کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 48)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے