رہے ما سوا کا نہ ہی کچھ خیال
رہے ما سوا کا نہ ہی کچھ خیال
مجھے ایک ہو جائے ماضی و حال
خلا اور ملا میں نہ ہو وہمِ غیر
کروں بیخودی میں خدائی کی سیر
مرے وصف بن جائیں تیرے صفات
میری زیست ہو جائے تیری حیات
مری بات بن جائے تیرا کلام
میرا حال ہو جائے تیرا خرام
پلا مجھ کو عرفاں کا جامِ رحیق
تحیر کے ورطہ میں کرکے غریق
نہ لیلیٰ رہے اور نہ مجنوں رہے
فقط درمیاں میں ایک مضموں رہے
نہ ساغر رہے اور نہ ساقی رہے
بجز تیرے ہمدمؔ نہ باقی رہے
- کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 48)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.