زاہد فضول بحثِ ثواب و عذاب ہے
زاہد فضول بحثِ ثواب و عذاب ہے
بندہ کی بندگی کا صلہ لا جواب ہے
زاہد کوئی عابد کوئی مؤمن کوئی مشرک
کیوں صرف متقی کو ہدایت کتاب ہے
توفیق گرنہ ہو تو نصیحت فضول ہے
مجھ سے خطا ہے یا کہ تجھ پر عتاب ہے
جیا کمایا تونے خرچ بھی کیا ہے کیا
روزِ حساب میں تو اسی کا حساب ہے
ماضی کی کلفتوں نے سبھی غم بھلا دیا
اب ذکرِ عیش باعثِ صدا اضطراب ہے
جنت تجھے ملے مجھے تسلیم و رضا بس
تیری پسند وہ یہ میرا انتخاب ہے
ہمدمؔ کو ڈھونڈیئے نہ وہ خانہ خراب ہے
مستِ الست ہے اور وہ پیتا شراب ہے
- کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 63)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.