Font by Mehr Nastaliq Web

جو تم ہو مرے دل میں تو دل یہی ہے

اسراراللہ شاہ غوثی

جو تم ہو مرے دل میں تو دل یہی ہے

اسراراللہ شاہ غوثی

MORE BYاسراراللہ شاہ غوثی

    جو تم ہو مرے دل میں تو دل یہی ہے

    یہی گھر ہے لیلیٰ کا محمل یہی ہے

    تیرا دوست میرا عدو دل یہی ہے

    ترا بسمل اور میرا قاتل یہی ہے

    رہ عشق میں جس جگہ گر پڑا میں

    کہا ضعف نے تیری منزل یہی ہے

    وہ صورت تصور سے ہٹنے نہ پائے

    ترا حسن اے عشقِ کامل یہی ہے

    کمالِ طلب ہے جو خود ہو وہ طالب

    وہ کھینچ آئے خود جذبِ کامل یہی ہے

    جیسے شیشہ سمجھا ہے اے محتسب تو

    نہ توڑ اس کو ظالم مرا دل یہی ہے

    نہیں اس کو دشوار کچھ قتل کرنا

    میں ہوں سخت جاں سخت مشکل یہی ہے

    میرے ناتواں دل کو دیکھا تو بولے

    ہلا دے گا جو عرش وہ دل یہی ہے

    یہ لعنت ملامت کا ہے پتلا ہمدمؔ

    کہا میری رحمت کے قابل یہی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 64)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے