Font by Mehr Nastaliq Web

جلوہ گاہ کی جانب پھر نظر اٹھاتے ہیں

اسراراللہ شاہ غوثی

جلوہ گاہ کی جانب پھر نظر اٹھاتے ہیں

اسراراللہ شاہ غوثی

MORE BYاسراراللہ شاہ غوثی

    جلوہ گاہ کی جانب پھر نظر اٹھاتے ہیں

    قسمت آزمائی ہے پھر بھی آزماتے ہیں

    سوختہ جگر کو کب خرمی میسر ہے

    بزمِ عیش میں بھی تو شمع کو جلاتے ہیں

    جتنے ہیں یہاں آئیں آئینہ نگاری ہے

    موم دل یہاں آکر اپنا دل جلاتے ہیں

    بندگانِ الفت کو دیر اور حرم سے کیا

    وہ جہاں نظر آئے سر وہیں جھکاتے ہیں

    بندگانِ الفت کا حوصلہ ذرا دیکھو

    دل میں درد ہوتا ہے پھر بھی مسکراتے ہیں

    ہمدمؔ حزیں رونا کفر ہے محبت میں

    دل سے ہوک اٹھتی ہے آنکھ ڈبڈتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 57)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے