جلوہ گاہ کی جانب پھر نظر اٹھاتے ہیں
جلوہ گاہ کی جانب پھر نظر اٹھاتے ہیں
قسمت آزمائی ہے پھر بھی آزماتے ہیں
سوختہ جگر کو کب خرمی میسر ہے
بزمِ عیش میں بھی تو شمع کو جلاتے ہیں
جتنے ہیں یہاں آئیں آئینہ نگاری ہے
موم دل یہاں آکر اپنا دل جلاتے ہیں
بندگانِ الفت کو دیر اور حرم سے کیا
وہ جہاں نظر آئے سر وہیں جھکاتے ہیں
بندگانِ الفت کا حوصلہ ذرا دیکھو
دل میں درد ہوتا ہے پھر بھی مسکراتے ہیں
ہمدمؔ حزیں رونا کفر ہے محبت میں
دل سے ہوک اٹھتی ہے آنکھ ڈبڈتے ہیں
- کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 57)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.