Font by Mehr Nastaliq Web

خودی کو ہم اپنی مٹائے ہوئے ہیں

عطا حسین

خودی کو ہم اپنی مٹائے ہوئے ہیں

عطا حسین

MORE BYعطا حسین

    خودی کو ہم اپنی مٹائے ہوئے ہیں

    خدا کا نشاں دل میں پائے ہوئے ہیں

    فرشتے کہاں پائیں منزل ہمارے

    مکان لامکاں میں بنائے ہوئے ہیں

    خدا کے لیے اپنی صورت دکھا دے

    تصور ترا ہم جمائے ہوئے ہیں

    ترے منہ سے جو ہم نے باتیں سنی ہیں

    وہ رمز اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہیں

    فرشتوں سے اٹھا نہ بارِا مانت

    سرو چشم سے ہم اٹھائے ہوئے ہیں

    عدم سے جو چونکے تو ہستی میں آئے

    یہاں ہم بھی مہمان آئے ہوئے ہیں

    شہاتم مدینہ میں ہم کو بلا لو

    یہاں لوگ ہم کو ستائے ہوئے ہیں

    نہیں مجھ کو کھٹکا ہے محشر کا واعظ

    گنہہ ان سے ہم بخشوائے ہوئے ہیں

    عطاؔ تجھ کو ہر شخص کہتا یہی ہے

    فقیری میں شاہی دکھائے ہوئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے