خودی کو ہم اپنی مٹائے ہوئے ہیں
خدا کا نشاں دل میں پائے ہوئے ہیں
فرشتے کہاں پائیں منزل ہمارے
مکان لامکاں میں بنائے ہوئے ہیں
خدا کے لیے اپنی صورت دکھا دے
تصور ترا ہم جمائے ہوئے ہیں
ترے منہ سے جو ہم نے باتیں سنی ہیں
وہ رمز اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہیں
فرشتوں سے اٹھا نہ بارِا مانت
سرو چشم سے ہم اٹھائے ہوئے ہیں
عدم سے جو چونکے تو ہستی میں آئے
یہاں ہم بھی مہمان آئے ہوئے ہیں
شہاتم مدینہ میں ہم کو بلا لو
یہاں لوگ ہم کو ستائے ہوئے ہیں
نہیں مجھ کو کھٹکا ہے محشر کا واعظ
گنہہ ان سے ہم بخشوائے ہوئے ہیں
عطاؔ تجھ کو ہر شخص کہتا یہی ہے
فقیری میں شاہی دکھائے ہوئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.