چمن میں کیا ہے جو جاتا ہے تو وہاں صیاد
چمن میں کیا ہے جو جاتا ہے تو وہاں صیاد
خزاں ہے اب کہاں بلبل کا آشیاں صیاد
پھنسا کے دام میں کیوں نوچتا ہے پر میرے
سمجھ لیا ہے مجھے تونے بے زباں صیاد
خطا ہے کیا مری اتنا تو کہہ دے بہر خدا
جو پاؤں میں مرے دیتا ہے بیڑیاں صیاد
یہ عندلیب دعا کرتی تھی بوقت سحر
الٰہی آئے نہ اب سوئے بوستاں صیاد
پتا نہ قمری کا یاں ہے نشاں نہ بلبل کا
ہے ترے ہاتھوں سے ویراں یہ بوستاں صیاد
قسم ہے گل کی تجھے مجھ کو بھی دکھا وہ چمن
سدا بہار جہاں ہوں نہ ہو خزاں صیاد
پھنسا لیا ہے ابھی اس نے دل کو باتوں میں
عطاؔ کے واسطے اس گل کی ہے زباں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.