Font by Mehr Nastaliq Web

لب پہ نالہ نہ کبھی چشم میں آنسو ہوتا

ازل لکھنوی

لب پہ نالہ نہ کبھی چشم میں آنسو ہوتا

ازل لکھنوی

MORE BYازل لکھنوی

    لب پہ نالہ نہ کبھی چشم میں آنسو ہوتا

    ایک پہلو میں یہ دل ایک میں گر تو ہوتا

    پاس اس چاند سے رخسار کے رہتا ہر دم

    میں سیہ بخت اگر آپ کا گیسو ہوتا

    آپ کو اپنے بغل سے نہ سرکنے دیتا

    ڈھونڈھتا روز ہوں ایسا کوئی پہلو ہوتا

    برہمن شیح میں ہرگز نہ بکھیڑا رہتا

    خوب ہوتا جو یہ قصہ کبھی یکسو ہوتا

    آپ سوتے جو کسی روز مرے پہلو میں

    ہاتھ تکیہ کبھی ہوتا کبھی زانو ہوتا

    اس قدر آہ میں میرے جو نہ ہوتی تاثیر

    نہ تو دل پر نہ انہیں پر میرا قابو ہوتا

    اس طرح سے نہیں صحرا میں اکیلا پھرتا

    آج کو قیس جو ہوتا مرا بازو ہوتا

    یاد آتی جو چمن میں تری زلف مشکیں

    مجھ کو ہر غنچہ گل نافہ آہو ہوتا

    ہجر میں یار کے مے خاک ازلؔ پیتے ہم

    جام گر منہ سے لگاتے بھی تو اچھو ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے