Font by Mehr Nastaliq Web

منہ نہ اپنا عشق سے تو اے دل بیمار کھینچ

ازل لکھنوی

منہ نہ اپنا عشق سے تو اے دل بیمار کھینچ

ازل لکھنوی

MORE BYازل لکھنوی

    منہ نہ اپنا عشق سے تو اے دل بیمار کھینچ

    زندگی باقی ہے جب تک اور یہ آزار کھینچ

    دم بہ دم نالے نہ یوں تو اے دلِ غمخوار کھینچ

    کھینچتا ہے گر تو اچھا با اثر دو چار کھینچ

    کس لیے آیا ہے میرے سامنے تو اے رقیب

    حوصلہ گر جنگ کا کچھ دل میں ہے تلوار کھینچ

    خون دل پیتے ہیں بیٹھے دور محفل سے ترے

    اپنی صحبت میں ہمیں بھی ساقی غمخوار کھینچ

    منہ چھپاتا ہے دوپٹہ سے ہمیں کیا دیکھ کر

    گر تجھے منظور پردہ ہے تو اک دیوار کھینچ

    آزمائیں آج باہم ہے کشش کس کی سوا

    میں تجھے کھینچوں ادھر اور تو ادھر اے یار کھینچ

    کل تو وہ اقرار تھا اور آج یہ انکار ہے

    دونوں ہاتھوں سے زباں اپنی تو او مکار کھینچ

    آ گئی برسات کعبہ کا تو جانا رہ گیا

    اب مجھے اپنی طرف تو خانۂ خمار کھینچ

    خط کسے لکھتا ہے بیٹھا اے ازلؔ بیکار بھی

    اس سے بہتر ہے طرح میں یار کچھ اشعار کھینچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے