Font by Mehr Nastaliq Web

بلایا غیر کو اپنا سمجھ کر

ازل لکھنوی

بلایا غیر کو اپنا سمجھ کر

ازل لکھنوی

MORE BYازل لکھنوی

    بلایا غیر کو اپنا سمجھ کر

    اجی جاؤ ہم آئیں کیا سمجھ کر

    کہا میں نے کہ بوسہ لوں تو بولے

    اجازت دوں گا میں اچھا سمجھ کر

    نہیں بے جا حسینوں کے ستم ہیں

    وہ کستے ہیں ہمیں سونا سمجھ کر

    میری میت پہ روے دیر تک وہ

    ہنسے پہلے بہت فقرہ سمجھ کر

    وہ نظروں سے گراتے ہیں گرائیں

    چڑھائیں سر انہیں ہم کیا سمجھ کر

    غلامی سے بتوں کی باز آئیں

    کریں آزاد وہ بندہ سمجھ کر

    زمانے نے کسی قابل نہ رکھا

    ملیں ہم آپ سے اب کیا سمجھ کر

    قیامت میں قیامت ہو نہ برپا

    الٹیے گا ذرا پردہ سمجھ کر

    دکھا بھی دیجیے اب جلوۂ حسن

    ہمیں بھی حضرت موسیٰ سمجھ کر

    میں دیوانہ ہوا ہوں اک پری کا

    دوا کرتے ہیں سب سودا سمجھ کر

    نہ پوچھو اے بتو در پر تمہارے

    خدا جانے پڑے ہیں کیا سمجھ کر

    ازلؔ ایسا نہ ہو دشمن ہنسیں سب

    مرے سرکی قسم رونا سمجھ کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے