Font by Mehr Nastaliq Web

عاشق سے تمہیں نفرت لا حول ولا قوت

ازل لکھنوی

عاشق سے تمہیں نفرت لا حول ولا قوت

ازل لکھنوی

MORE BYازل لکھنوی

    عاشق سے تمہیں نفرت لا حول ولا قوت

    اچھی نہیں یہ عادت لا حول ولا قوت

    آتے وہ عیادت کو بیمار محبت کی

    اتنی بھی نہیں فرصت لا حول ولا قوت

    آگے مرے لے کوئی کیا نام محبت کا

    غیروں کی تھی یہ طاقت لا حول ولا قوت

    پہلے تری عادت سے آگاہ نہ تھے ظالم

    اب تجھ سے کریں الفت لا حول ولا قوت

    گہہ فکر معیشت ہے گہہ خوف ہے عقبیٰ کا

    دنیا میں ملے راحت لا حول ولا قوت

    کیا کہتے ہو یہ ہر دم لا کھوں مرے عاشق ہیں

    دیکھوں میں ذرا صورت لا حول ولا قوت

    افسوس محبت میں کچھ خاک نہ ہم سمجھے

    مٹی ہوئی سب محنت لا حول ولا قوت

    منعم سے جھکائیں سر عادت نہیں اپنی

    کیا مال ہے یہ دولت لا حول ولاقوت

    آخر کو ازلؔ اس سے ہم ہاتھ اٹھا بیٹھے

    کچھ بھی نہ چلی حکمت لاحول ولا قوت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے