Font by Mehr Nastaliq Web

گردوں کو گرا دیں مرے نالے نہ کہیں آج

ازل لکھنوی

گردوں کو گرا دیں مرے نالے نہ کہیں آج

ازل لکھنوی

MORE BYازل لکھنوی

    گردوں کو گرا دیں مرے نالے نہ کہیں آج

    بے پردہ نہ ہو جائے کوئی پردہ نشیں آج

    کیوں کر نہ ہو اس شوخ کو یکتائی کا دعویٰ

    یوسف بھی تو افسوس ہے دنیا میں نہیں آج

    کیا کہتا ہوں میں سنتے ہو کچھ منہ سے تو بولو

    کیوں کل کی طرح یار میں رہ جاؤں یہیں آج

    بوسہ پہ بگڑتے ہو تو بگڑا کرو اس دم

    ہاں ہاں نہیں سننے کے تمہاری یہ نہیں آج

    اس عہد کے یاروں سے خدا ہم کو بچائے

    کل روتے تھے الفت کو مروت بھی نہیں آج

    آتے نہیں لڑنے کو جو اغیار نہ آئیں

    تلوار کو کھینچے ہوئے جاتے ہیں ہمیں آج

    جو پاس رہے وصل سے محروم وہی ہو

    انصاف ہمارا کرو اے یار تمہیں آج

    تم دیکھنا کل پھر وہ ازلؔ شاد گرے گا

    کچھ غم نہیں اس بات کا گر ہم ہیں حزیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے