Font by Mehr Nastaliq Web

اب ملا ہے مجھے محبوب وہ نایاب حضور

ازل لکھنوی

اب ملا ہے مجھے محبوب وہ نایاب حضور

ازل لکھنوی

MORE BYازل لکھنوی

    اب ملا ہے مجھے محبوب وہ نایاب حضور

    آپ کیا حضرت یوسف کو بھی آداب حضور

    پیجیے پیجیے برسات میں توبہ کیسی

    کیا گھٹا آئی ہے منگواؤں مئے ناب حضور

    لائیے گور غریباں پہ نہ غیروں کو مدام

    سوتے سوتے کہیں مردے نہ ہوں بد خواب حضور

    یاد تو کیجیے اقرار تھے کیا کیا ہم سے

    سچ ہے دنیا میں نہیں آپ سا کذ آب حضور

    شب فرقت میں کہاں آپ نے رونا دیکھا

    ہم نے اِن آنکھوں سے چھلکا دیے تالاب حضور

    صبر ہے دل میں نہ قوت نہ شکیبائی ہے

    عشق نے لوٹ لیا سب مرا اسباب حضور

    قبر میں اب تو بھروسا ہے فقط آپ ہی کا

    چل دیے چھوڑ کے تنہا مجھے احباب حضور

    آشنا کوئی کسی کا نہیں دنیا میں ازلؔ

    بس ملاقات کو اب کیجیے آداب حضور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے