Font by Mehr Nastaliq Web

کون سی شے ہے کہ جس میں نہیں جلوا ترا

ازل لکھنوی

کون سی شے ہے کہ جس میں نہیں جلوا ترا

ازل لکھنوی

MORE BYازل لکھنوی

    کون سی شے ہے کہ جس میں نہیں جلوا ترا

    کون سا سر ہے کہ جس میں نہیں سودا تیرا

    کون بندہ ہے کہ دل سے نہیں بندا تیرا

    وہی کافر ہے کہ پڑھتا نہیں کلما تیرا

    منتظر ہوں نظر آتا نہیں جلوا تیرا

    کیا قیامت ہے مجھے وعدۂ فردا تیرا

    کس طرح فرض ہو مجھ کو اطاعت تری

    حق تو یہ ہے کہ دل و جاں سے ہوں بندا تیرا

    مجھ گنہگار کا بیڑا بھی کہیں پار لگے

    جوش میں آئے الٰہی کہیں دریا تیرا

    کوئی کعبہ میں کلیسا میں سمجھتا ہے کوئی

    کیا تماشا ہے کہ کھلتا نہیں پردا تیرا

    کیجیو مجھ کو نہ رسوا یہ کہے رکھتا ہوں

    ہوں گنہگار پہ کہلاتا ہوں بندا تیرا

    غم نہیں لکھتے ہیں گر کاتب اعمال ازلؔ

    وہ مٹا دیں گے برا ہوگا جو لکھا تیرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے