Font by Mehr Nastaliq Web

ایک دن مجھ پر بھی تیغ ابروئے خمدار کھینچ

اعظم استھانوی

ایک دن مجھ پر بھی تیغ ابروئے خمدار کھینچ

اعظم استھانوی

MORE BYاعظم استھانوی

    ایک دن مجھ پر بھی تیغ ابروئے خمدار کھینچ

    دور اتنا آپ کو مجھ سے نہ او خونخوار کھینچ

    تفرقہ تو چاہتا ہے گر تو اے جانِ جہاں

    میرے اپنے درمیان تو ہی کوئی دیوار کھینچ

    بیخودی کا دور ہے مسجد سے گھبراتا ہے دل

    مجھ کو تو اپنی طرف اے خانہ خمار کھیچ

    منتظر میں بھی ہوں مدت سے شہادت کے لیے

    اے کرم فرما مرے تو میان سے تلوار کھینچ

    کنج تنہائی سے میں باہر کبھی جاتا نہیں

    جوش الفت زور سے لایا سرِ بازار کھینچ

    جذبۂ دل کیا ہوا تجھ کو خدا کے واسطے

    رحم کر مجھ پر ذرا اب دامنِ دلدار کھینچ

    گر ارادہ قتل کا اعظمؔ کے ہے اے صف شکن

    تجھ کو لازم ہے کہ اپنا خنجر خونخوار کھینچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے