ایک دن مجھ پر بھی تیغ ابروئے خمدار کھینچ
ایک دن مجھ پر بھی تیغ ابروئے خمدار کھینچ
دور اتنا آپ کو مجھ سے نہ او خونخوار کھینچ
تفرقہ تو چاہتا ہے گر تو اے جانِ جہاں
میرے اپنے درمیان تو ہی کوئی دیوار کھینچ
بیخودی کا دور ہے مسجد سے گھبراتا ہے دل
مجھ کو تو اپنی طرف اے خانہ خمار کھیچ
منتظر میں بھی ہوں مدت سے شہادت کے لیے
اے کرم فرما مرے تو میان سے تلوار کھینچ
کنج تنہائی سے میں باہر کبھی جاتا نہیں
جوش الفت زور سے لایا سرِ بازار کھینچ
جذبۂ دل کیا ہوا تجھ کو خدا کے واسطے
رحم کر مجھ پر ذرا اب دامنِ دلدار کھینچ
گر ارادہ قتل کا اعظمؔ کے ہے اے صف شکن
تجھ کو لازم ہے کہ اپنا خنجر خونخوار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.