جواب عرض مطلب کی نہ صورت رہ گئی باقی
جواب عرض مطلب کی نہ صورت رہ گئی باقی
انہوں نے طاق نسیاں پر ہماری داستان رکھ دی
اڑی پھرتی ہے کیوں بلبل صبا یہ ماجرا کیا ہے
یہ کس وحشت زدہ کی خاک زیر آشیاں رکھ دی
ثمر بھی گل بھی برگِ سبز بھی جو کچھ میسر تھا
چمن کی ساری دولت لا کے پیش باغباں رکھ دی
سر شوریدہ اپنا اور ذوقِ آستاں بوسی
یہ عالم تھا کہ پیشانی یہاں رکھ دی وہاں رکھ دی
بتائے کون کس کو ہوش ہستی نیستی کیسی
کہ ہم نے طاق نسیاں پہ یہ فرضی داستاں رکھ دی
تیری جادو نگاہی نے یہ کی ہے شعبدہ بازی
جگر میں درد اشک آنکھوں میں اور لب پر فغاں رکھ دی
بتائے تم کو محو دید کیا اپنی حقیقت کو
نہیں معلوم مدہوشی میں وہ ہستی کہاں رکھ دی
برنگ عکس آئینہ وہی صورت ہوئی پیدا
نگاہِ لطف نے تیرے مری ہستی جہاں رکھ دی
ستارے آسماں سے جھانکتے ہیں کس کو جھک جھک کر
تری تصویر کس نے آج زیرِ آسماں رکھ دی
قدم پر سر کو رکھنا تھا زمیں پر سجدہ کر ڈالا
یہ پیشانی کہاں رکھنے کی تھی ہم نے کہاں رکھ دی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.