Font by Mehr Nastaliq Web

جواب عرض مطلب کی نہ صورت رہ گئی باقی

عزیز حسن

جواب عرض مطلب کی نہ صورت رہ گئی باقی

عزیز حسن

MORE BYعزیز حسن

    جواب عرض مطلب کی نہ صورت رہ گئی باقی

    انہوں نے طاق نسیاں پر ہماری داستان رکھ دی

    اڑی پھرتی ہے کیوں بلبل صبا یہ ماجرا کیا ہے

    یہ کس وحشت زدہ کی خاک زیر آشیاں رکھ دی

    ثمر بھی گل بھی برگِ سبز بھی جو کچھ میسر تھا

    چمن کی ساری دولت لا کے پیش باغباں رکھ دی

    سر شوریدہ اپنا اور ذوقِ آستاں بوسی

    یہ عالم تھا کہ پیشانی یہاں رکھ دی وہاں رکھ دی

    بتائے کون کس کو ہوش ہستی نیستی کیسی

    کہ ہم نے طاق نسیاں پہ یہ فرضی داستاں رکھ دی

    تیری جادو نگاہی نے یہ کی ہے شعبدہ بازی

    جگر میں درد اشک آنکھوں میں اور لب پر فغاں رکھ دی

    بتائے تم کو محو دید کیا اپنی حقیقت کو

    نہیں معلوم مدہوشی میں وہ ہستی کہاں رکھ دی

    برنگ عکس آئینہ وہی صورت ہوئی پیدا

    نگاہِ لطف نے تیرے مری ہستی جہاں رکھ دی

    ستارے آسماں سے جھانکتے ہیں کس کو جھک جھک کر

    تری تصویر کس نے آج زیرِ آسماں رکھ دی

    قدم پر سر کو رکھنا تھا زمیں پر سجدہ کر ڈالا

    یہ پیشانی کہاں رکھنے کی تھی ہم نے کہاں رکھ دی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے