پھر بھلا کیوں کر نہ مرغِ دل مرا نخچیر ہو
پھر بھلا کیوں کر نہ مرغِ دل مرا نخچیر ہو
تیز پر شہباز گران کے نگہ کا تیر ہو
اس لیے جاتے نہیں گور غریباں کی طرف
خاک عشاقاں نہ شاید ان کے دامن گیر ہو
آہ ہے نالہ ہے گریہ ہے فغاں ہے شور ہے
اور کیا ان کے خبر کرنے کی اب تدبیر ہو
رات کو دیکھا ہے میں نے مارِ گیسو کو عزیزؔ
کہہ دو جو خواب پریشاں کی مری تعبیر ہو
- کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 248)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.