Font by Mehr Nastaliq Web

پھر بھلا کیوں کر نہ مرغِ دل مرا نخچیر ہو

عزیز حسن

پھر بھلا کیوں کر نہ مرغِ دل مرا نخچیر ہو

عزیز حسن

MORE BYعزیز حسن

    پھر بھلا کیوں کر نہ مرغِ دل مرا نخچیر ہو

    تیز پر شہباز گران کے نگہ کا تیر ہو

    اس لیے جاتے نہیں گور غریباں کی طرف

    خاک عشاقاں نہ شاید ان کے دامن گیر ہو

    آہ ہے نالہ ہے گریہ ہے فغاں ہے شور ہے

    اور کیا ان کے خبر کرنے کی اب تدبیر ہو

    رات کو دیکھا ہے میں نے مارِ گیسو کو عزیزؔ

    کہہ دو جو خواب پریشاں کی مری تعبیر ہو

    مأخذ :
    • کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 248)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے