مسکن نہیں کچھ کعبہ و بت خانہ کسی کا
مسکن نہیں کچھ کعبہ و بت خانہ کسی کا
ہر گھر میں ہے اک جلوہ جانانہ کسی کا
ٹوٹا نہیں شیشہ ترے ہاتھوں سے یہ گر کر
دل چور ہے اے لغزش مستانہ کسی کا
کچھ قتل کا اپنے مجھے افسوس نہیں ہے
یہ ڈر ہے کہ دکھنے نہ لگے شانہ کسی کا
وہ پھول سا اپنا رخ رنگیں جو دکھا دیں
اس طرح نہ تنکے چنے دیوانہ کسی کا
صحرا میں عزیزؔ اس کی بسر ہوتی ہے اوقات
ہوتا ہے کبھی کوئی جو دیوانہ کسی کا
- کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 253)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.