Font by Mehr Nastaliq Web

مجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتے

عزیز حسن

مجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتے

عزیز حسن

MORE BYعزیز حسن

    مجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتے

    اس روز کےجھگڑے کو مٹا کیوں نہیں دیتے

    باقی ہو کوئی اور ستم تازہ تو کہہ دو

    آخر مجھے مرنےکی رضا کیوں نہیں دیتے

    مارا ہے مجھے تم نے تو اب دفن بھی کر دو

    مٹی کو ٹھکانے سے لگا کیوں نہیں دیتے

    کس ناز سےکہتے ہیں وہ دل لے کے ہمارا

    اب تم ہمیں اس دل سے دعا کیوں نہیں دیتے

    مجمع ہے عزیزؔ اس شہِ خوبی کے جو در پر

    تم جا کے فقیرانہ صدا کیوں نہیں دیتے

    مأخذ :
    • کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 254)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے