مجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتے
مجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتے
اس روز کےجھگڑے کو مٹا کیوں نہیں دیتے
باقی ہو کوئی اور ستم تازہ تو کہہ دو
آخر مجھے مرنےکی رضا کیوں نہیں دیتے
مارا ہے مجھے تم نے تو اب دفن بھی کر دو
مٹی کو ٹھکانے سے لگا کیوں نہیں دیتے
کس ناز سےکہتے ہیں وہ دل لے کے ہمارا
اب تم ہمیں اس دل سے دعا کیوں نہیں دیتے
مجمع ہے عزیزؔ اس شہِ خوبی کے جو در پر
تم جا کے فقیرانہ صدا کیوں نہیں دیتے
- کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 254)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.