پڑا قفس میں تڑپتا ہوں نیم جاں صیاد
پڑا قفس میں تڑپتا ہوں نیم جاں صیاد
خدا کے واسطے اب ہو تو مہرباں صیاد
لبوں پہ آہی گئی جان ناتواں صیاد
کسی طرح نہیں اب زیست کا گماں صیاد
تلاش دل میں پھنسا آ کے میں یہاں صیاد
وگرنہ تو بھلا پاتا مجھے کہاں صیاد
جلا کے گھر مرا افسوس کر دیا برباد
خدا کرے ترا مٹ جائے خانماں صیاد
سناؤں میں تجھے کیا اپنا قصۂ پر غم
کبھی سنے گا نہ تو مری داستاں صیاد
میں چیختا رہا کنج قفس میں برسوں تک
مگر سنی نہ کسی نے مری فغاں صیاد
مجھی کو تحتۂ مشق ستم بنایا واہ
ترے کرم سے مجھے تھا نہ یہ گماں صیاد
تماشا بلبل و گل کا بس اب ہوا آخر
گئے بہار کے دن آگئی خزاں صیاد
قفس میں بسملؔ خستہ کے دل کو کر کے بند
پھرائے پھرتا ہے دیکھیں کہاں کہاں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.