Font by Mehr Nastaliq Web

پڑا قفس میں تڑپتا ہوں نیم جاں صیاد

اظہر حسین بسمل

پڑا قفس میں تڑپتا ہوں نیم جاں صیاد

اظہر حسین بسمل

MORE BYاظہر حسین بسمل

    پڑا قفس میں تڑپتا ہوں نیم جاں صیاد

    خدا کے واسطے اب ہو تو مہرباں صیاد

    لبوں پہ آہی گئی جان ناتواں صیاد

    کسی طرح نہیں اب زیست کا گماں صیاد

    تلاش دل میں پھنسا آ کے میں یہاں صیاد

    وگرنہ تو بھلا پاتا مجھے کہاں صیاد

    جلا کے گھر مرا افسوس کر دیا برباد

    خدا کرے ترا مٹ جائے خانماں صیاد

    سناؤں میں تجھے کیا اپنا قصۂ پر غم

    کبھی سنے گا نہ تو مری داستاں صیاد

    میں چیختا رہا کنج قفس میں برسوں تک

    مگر سنی نہ کسی نے مری فغاں صیاد

    مجھی کو تحتۂ مشق ستم بنایا واہ

    ترے کرم سے مجھے تھا نہ یہ گماں صیاد

    تماشا بلبل و گل کا بس اب ہوا آخر

    گئے بہار کے دن آگئی خزاں صیاد

    قفس میں بسملؔ خستہ کے دل کو کر کے بند

    پھرائے پھرتا ہے دیکھیں کہاں کہاں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے