Font by Mehr Nastaliq Web

وہ کیا منزل تھی حسن و عشق کی کل شب جہاں میں تھا

عزیز وارثی دہلوی

وہ کیا منزل تھی حسن و عشق کی کل شب جہاں میں تھا

عزیز وارثی دہلوی

MORE BYعزیز وارثی دہلوی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم" کا اردو منظوم ترجمہ۔

    وہ کیا منزل تھی حسن و عشق کی کل شب جہاں میں تھا

    مسلسل رقص میں تھی زندگی کل شب جہاں میں تھا

    سراپا حسن وہ نور مجسم وہ قد و قامت

    ہر اک جلوے میں تھی رخشندگی کل شب جہاں میں تھا

    رقیب اس کے قریں اور امتحاں میری وفاؤں کا

    قیامت سے نہ کم تھی وہ گھڑی کل شب جہاں میں تھا

    خدائے پاک جس محفل میں خسرو جلوہ فرما تھے

    نبی کی ذات شمعِ بزم تھی کل شب جہاں میں تھا

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 141)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے