وہ کیا منزل تھی حسن و عشق کی کل شب جہاں میں تھا
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم" کا اردو منظوم ترجمہ۔
وہ کیا منزل تھی حسن و عشق کی کل شب جہاں میں تھا
مسلسل رقص میں تھی زندگی کل شب جہاں میں تھا
سراپا حسن وہ نور مجسم وہ قد و قامت
ہر اک جلوے میں تھی رخشندگی کل شب جہاں میں تھا
رقیب اس کے قریں اور امتحاں میری وفاؤں کا
قیامت سے نہ کم تھی وہ گھڑی کل شب جہاں میں تھا
خدائے پاک جس محفل میں خسرو جلوہ فرما تھے
نبی کی ذات شمعِ بزم تھی کل شب جہاں میں تھا
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 141)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.