تمہاری آنکھیں ہیں تیر افگن نظر کے ہیں تیر کس بلا کے
تمہاری آنکھیں ہیں تیر افگن نظر کے ہیں تیر کس بلا کے
عزیز وارثی دہلوی
MORE BYعزیز وارثی دہلوی
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "دو چشمت کہ تیرِ بلا می زند" کا اردو منظوم ترجمہ۔
تمہاری آنکھیں ہیں تیر افگن نظر کے ہیں تیر کس بلا کے
یہ تیر کیوں دل پہ مارتے ہو نظر سے میری نظر ملا کے
کمانِ ابرو کھنچی تھی سوئے رقیب لیکن فریب تھا یہ
تمہارا تیر نظر لگا ہے ہماری جانِ حزیں پہ آئے
خوشا یہ برق نگاہِ کافر کہیں تو چمکے گرے کہیں پر
زہے یہ اندازِ چشمِ قاتل کسی کو مارے کسی کو تاکے
نہ ہوگا خسرو یہ دردِ دل کم بہا نہ آنکھوں سے اشکِ پیہم
کہ خرمنِ جاں کو پھونک دے گی یہ آتشِ غم جلا جلا کے
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 145)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.